اداریہ – جلد 03 شمارہ 15

Editorial - volume 03 Issue 15
Last Updated: اپریل 12, 2026By Categories: اداریہ0 Comments on اداریہ – جلد 03 شمارہ 150 min readViews: 3

 ماضی بطور قطب نما: مقدس یادوں کے ذریعے آج کی زندگی کی رہنمائی

مقدمہ

ہر گزرتا ہوا ہفتہ ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے قیمتی ورثے سے دوبارہ  متصل ہوں اور عصرِ حاضر کی زندگی کے لئے رہنمائی حاصل کریں۔ اہم واقعات اور شخصیات پر غور و فکر کے ذریعے ہم اپنے کردار کو بطور مربی، رہنما اور اپنی کمیونٹی کے خدمت گزار کے طور پر مضبوط بناسکتے ہیں:

21 شوال: فتحِ اندلس (۹۲ ہجری قمری):

فتحِ اندلس کا آغاز ۹۲ ہجری میں طارق بن زیاد کی قیادت میں ہوا، جس کے نتیجے میں جزیرہ نما آئبیریا میں ایک متحرک اور درخشاں تہذیب وجود میں آئی۔ یہ دور علم، فلسفہ اور ثقافتی تعامل میں اپنی نمایاں کامیابیوں کی وجہ سے معروف ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام علم، عدل اور دوسروں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی پر زور دیتا ہے۔ اندلس کی کامیابی مختلف معاشروں کے ساتھ تعامل میں حکمت اور اخلاقی رویّے کی پابندی کو ظاہر کرتی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:

"ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ”
"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔” ( سورۂ النحل: 125)

آج کا پیغام: آج کے مسلمانوں کو حکمت، علم اور معاشرے کے ساتھ مثبت تعامل کا عملی نمونہ بننا چاہئے۔

25 شوال: شہادتِ امام جعفر صادق علیہ السلام کا دن (148 ہجری قمری):

امام جعفر صادق علیہ السلام، چھٹے امام، 148 ہجری میں شہید ہوئے۔ آپ اپنے زمانے کے عظیم ترین علماء میں شمار ہوتے تھے اور فقہ، کلام اور اسلامی علوم کی ترویج میں آپ کا  اہم کردار  رہا ہے ۔ آپ کی زندگی علم، صداقت اور ظلم کے مقابلے میں صبر کی اہمیت کی یاد دہانی کراتی ہے۔ آپ یہ سکھاتے تھے کہ حقیقی ایمان انسان کے کردار اور عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
«كُونُوا دُعَاةً لِلنَّاسِ بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ» (اصول کافی، ج ۲، ص ۷۸)
"لوگوں کو اپنی زبان کے بغیر (یعنی اپنے عمل کے ذریعے)  دین کی طرف دعوت دیاکرو۔”

آج کا پیغام: ہمارا کردار ہمارے عقائد کی عکاسی کرے اور ہمیں معاشرے میں اسلامی اقدار کا زندہ نمونہ بنائے۔

14 اپریل :  عطّار نیشابوری کا یومِ  وصال :
فریدالدین عطّار، عظیم ایرانی شاعر اور صوفی، اس دن اپنی گہری ادبی اور روحانی خدمات کے اعتراف میں یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی تصانیف، جیسے منطق الطیر، تذکرۃ الاولیاء اور الٰہی نامہ روح کے سفر کو حقیقتِ الٰہی کی طرف پیش کرتی ہیں۔

منطق الطیر ان کی  سب سے معروف کاوش ہے، جس میں پرندوں کے "سیمرغ” کی تلاش اور عشق کی سات وادیوں سے گزرنے کی داستان بیان کی گئی ہے۔ عطّار کے مقام کو بیان کرنے کے لئے مولانا رومی کا یہ مشہور قول کافی ہے:
"عطار نے عشق کے سات شہر طے کر لیے، اور ہم ابھی ایک گلی کے موڑ میں ہیں۔”

عطار کی تعلیمات خودسازی، اخلاص اور محبتِ الٰہی کی جستجو پر زور دیتی ہیں—یہ وہ اقدار ہیں جو اسلامی روحانیت کی بنیاد ہیں۔ ان کی میراث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی اصلاح بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے:
"قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا”
"یقیناً کامیاب ہوا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔” (الشمس: ۹)

آج کا پیغام: حقیقی کامیابی نفس کے تزکیہ اور اللہ سے گہرے تعلق میں ہے۔

اختتامی کلمات
یہ تمام مواقع ہمیں  اس بات کی طرف توجہ دلاتےہیں کہ ہم عمل اور فکر، علم اور اخلاص، اور تاریخ اور آج کی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کریں۔ اپنی روایات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ہم خود کو اور اپنے مخاطبین کو اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ عصرِ حاضر کے چیلنجز کا سامنا ایمان اور حکمت کے ساتھ کرسکیں۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔