موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 08

Topic of the Week - Volume 03 Issue 08
Last Updated: فروری 17, 2026By Categories: موضوعِ ہفتہ0 Comments on موضوعِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 080 min readViews: 8

قرآن اور رمضان کی باہمی خدمات

سید هاشم موسوی

مقدمہ

اسلامی بندگی کے نظام میں بعض اوقات اور بعض حقائق اس قدر گہرے طور پر ایک دوسرے سے وابستہ ہیں کہ انہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔ قرآنِ کریم—جو ہدایت کی کتاب ہے—اور ماہِ رمضان—جو ضیافتِ الٰہی کا مہینہ ہے—ایسے ہی مبارک اور حسین پیوندوں میں سے ہیں۔

اگر قرآن کو ہم “ثقلِ اکبر” اور انسانیت کا جاوداں رہنما قرار دیں، تو رمضان کو اس حقیقت کے ظہور اور شکوفائی کا مقدس زمانہ کہیں۔

اللہ تعالیٰ سورۂ بقرہ کی آیت ۱۸۵ میں اس تعلق کو یوں واضح فرماتا ہے:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَ بَیِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَ الْفُرْقَانِ
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا؛ لوگوں کے لیے ہدایت، اور ہدایت کی روشن نشانیاں، اور حق و باطل میں فرق کرنے والا۔

اس آیت میں رمضان کی شناخت قرآن سے وابستہ کی گئی ہے۔ گویا قرآن کے بغیر رمضان اپنی کامل معنویت  سے خالی ہے، اور رمضان کے بستر کے بغیر قرآن اجتماعی اور تربیتی سطح پر پوری طرح شکوفا نہیں ہوتا۔ یہی “قرآن اور رمضان کی باہمی خدمات” ہیں۔
قرآن، رمضان کو روح اور معنی عطا کرتا ہے؛ اور رمضان، قرآن کو عملی میدان اور اثر پذیری کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ دونوں ایسے ہیں جیسے مؤمن کی پرواز کے دو مضبوط پر۔

پہلا حصہ: رمضان کے لیے قرآن کی خدمات:

1۔ قرآن ،زمانے کے قالب میں روح پھونکتا ہے۔

 (امساک کو معنی دینا: بھوک سے تقویٰ تک) قرآن نے روزے کے مقصد کو محض ایک جسمانی مشق سے بلند کر کے روحانی انقلاب کا درجہ دیا ہے۔ اگر رمضان کو قرآن سے جدا کر دیا جائے تو وہ صرف ایک عبادتی روایت یا جسمانی ریاضت بن کر رہ جاتا ہے۔ لیکن جب قرآن رمضان کا مرکز بن جائے تو:

  • خاموشی، ذکر اور تلاوت میں بدل جاتی ہے۔
  • شب بیداری، قرآنی احیاء میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
  • روزہ، محض بھوک نہیں رہتا بلکہ تقویٰ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

جیسا کہ سورۂ بقرہ آیت ۱۸۳ میں ارشاد ہوتا ہے:

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ… لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
“تم پر روزہ فرض کیا گیا… تاکہ تم پرہیزگار بنو۔”

تقویٰ—جو روزے کا بنیادی ہدف ہے—قرآن اور روزے کی مشترکہ عطا ہے۔ روزہ دراصل حلال چیزوں کو وقتی طور پر ترک کرنے کی مشق ہے، تاکہ انسان میں حرام سے بچنے کی قوت پیدا ہو۔ جو شخص شدید پیاس کے باوجود پانی سے رک سکتا ہے، وہ گناہ کے سامنے بھی “نہیں” کہنے کی طاقت پیدا کر سکتا ہے۔ امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں:

«الصِّیَامُ اجْتِنَابُ الْمَحَارِمِ كَمَا یَمْتَنِعُ الرَّجُلُ مِنَ الطَّعَامِ وَ الشَّرَابِ؛

“روزه گناہوں سے اجتناب ہے، جس طرح انسان کھانے پینے سے رک جاتا ہے۔”

حضرت فاطمہؑ کا ارشاد ہے:

ما یصنع الصائم بصیامه اذا لم یصن لسانه و سمعه و بصره و جوارحه

“اس روزے کا کیا فائدہ جس میں انسان اپنی زبان، کان، آنکھ اور اعضا کی حفاظت نہ کرے؟”

پس قرآن رمضان کو محض جسمانی محدودیت سے اٹھا کر اخلاقی تربیت کی درسگاہ بنا دیتا ہے۔

قرآن ، شبِ قدر کو  منزل عطا کرتا ہے:  اس لئے کہ شب قدر، رمضان کا دھڑکتا دل ہے۔

  “شبِ قدر رمضان کا دل ہے۔” امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: . «قَلبُ شَهرِ رَمَضانَ لَیلَةُ القَدرِ»

بے شک یہ دل قرآن کے نزول سے دھڑکتا ہے:

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
“ہم نے اسے شبِ قدر میں نازل کیا۔”

اگر قرآن نہ ہوتا تو شبِ قدر صرف ایک مبارک رات ہوتی، لیکن وحی کے نزول نے اسے تاریخِ انسانیت کا سنگِ میل بنا دیا۔ قرآن شبِ قدر کو “بیدار رہنے” کی نہیں بلکہ “بیدار ہو جانے” کی رات بنا دیتا ہے—ایسی رات جس میں انسان تدبر کے ذریعے اپنے مستقبل کا راستہ درست کرتا ہے۔

3۔ قرآن ، روزے کو محض بھوک تک محدود ہونے سے نکال کر روحانی ارتقاء  کا ذریعہ  بنادیتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے متنبہ فرمایا:

«رُبَّ صائِمٍ حَظُّهُ مِن صِیامِهِ الجُوعُ وَ العَطَشُ

“بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے صرف بھوک اور پیاس ہی نصیب ہوتی ہے۔”

قرآن اپنی اخلاقی تعلیمات کے ذریعے روزے کو آنکھ، زبان، ہاتھ اور دل تک پھیلا دیتا ہے:

  • نگاہ نیچی رکھنا
  • زبان کی حفاظت
  • لغو سے اجتناب

جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:

«وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ ۚ إِنَّ السَّمعَ وَالبَصَرَ وَالفُؤادَ كُلُّ أُولٰئِكَ كانَ عَنهُ مَسئولًا

کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (الإسراء: 36)

قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ
مومن اپنی نگاہیں نیچی رکھیں…  (النور:30)

يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ؛

اس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس بات کی گواہی دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے. (النور/۲۴)

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ… الَّذِینَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ
مومن فلاح پا گئے… جو لغو سے کنارہ کش رہتے ہیں۔ (المؤمنون: 1–3)

امام علیؑ فرماتے ہیں:

صَوْمُ الْقَلْبِ خَیْرٌ مِنْ صَوْمِ اللِّسَانِ، وَ صَوْمُ اللِّسَانِ خَیْرٌ مِنْ صَوْمِ الْبَطْنِ

“دل کا روزہ زبان کے روزے سے بہتر ہے، اور زبان کا روزہ شکم کے روزے سے بہتر ہے۔”

یوں قرآن رمضان کو جسمانی تجربے سے بلند کر کے ہمہ جہت انسانی انقلاب میں بدل دیتا ہے۔

دوسرا حصہ: قرآن کے لیے رمضان کی خدمات:

1۔ ماہ رمضان، قرآن سے عمومی انس کا ماحول پیدا کرتا ہے۔

امام باقرؑ فرماتے ہیں:

لِكُلِّ شَیْءٍ رَبِیعٌ وَ رَبِیعُ الْقُرْآنِ شَهْرُ رَمَضَانَ

 "ہر چیز کی ایک بہار ہوتی ہے، اور قرآن کی بہار رمضان ہے۔”

رمضان میں معاشرہ عمومی طور پر قرآن کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ تلاوت کی محفلیں بڑھتی ہیں، مساجد آباد ہوتی ہیں، اور وہ لوگ بھی قرآن کے قریب آتے ہیں جو سال بھر کم وابستہ رہتے ہیں۔

حدیث میں آیا ہے کہ رمضان میں سرکش شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں:

يَا مَعْشَرَ النَّاسِ إِذَا طَلَعَ هِلَالُ شَهْرِ رَمَضَانَ غُلَّتْ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ؛

یعنی ہدایت کے بیرونی موانع کم ہو جاتے ہیں، اور حق کو سننے کی اجتماعی استعداد بڑھ جاتی ہے۔

2۔ ماہ رمضان، تلاوت کی ثقافت کو زندہ کرتا ہے۔

امام رضاؑ فرماتے ہیں:

مَنْ قَرَأَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كَانَ كَمَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فِي غَيْرِهِ مِنَ الشُّهُور

 "جو شخص رمضان میں قرآن کی ایک آیت پڑھے، اسے ایسا اجر ملتا ہے جیسے اس نے دوسرے مہینوں میں پورا قرآن پڑھ لیا ہو۔”

یہ ترغیب دراصل ایک تربیتی حکمت ہے-قرآن کو زندگی کے حاشیے سے اٹھا کر مرکز میں لانا۔ رمضان معاشرے کو ایک عظیم قرآنی مدرسہ بنا دیتا ہے۔ سیرتِ نبویؐ میں ہے کہ رمضان میں حضرت جبرئیلؑ ہر رات قرآن کا دور فرماتے تھے-یہ اس بات کی علامت ہے کہ رمضان، وحی کی طرف لوٹنے کا موسم ہے۔

3۔ ماہ رمضان، دل کی نرمی اور تدبر کا ماحول  پیدا کرتا ہے۔

کم کھانا اور روزہ رکھنا دل کو نرم کرتا ہے۔ جب جسم ہلکا ہوتا ہے تو دل حکمت کو بہتر طور پر قبول کرتا ہے۔

إِذَا خَفَّ الْبَطْنُ ثَقُلَ الْقَلْبُ بِالْحِكْمَةِ،

جب پیٹ ہلکا ہوتا ہے تو دل حکمت سے بھر جاتا ہے۔

 قرآن خود دعوت دیتا ہے:

أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
"کیا یہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟” (محمد: 24)

ماہ رمضان اس تدبر کی کنجی ہے۔ شبِ قدر کے آنسو، سحری کی دعائیں، خوف و رجاء کی کیفیت . یہ سب دل کو آمادہ کرتے ہیں۔ جب انسان روزے سے خواہشات کو قابو کرتا ہے اور قرآن سے ذہن کو نورانی بناتا ہے تو حقیقی باطنی تجدید ممکن ہوتی ہے۔

خلاصۂ کلام:

قرآن اور رمضان کا تعلق باہمی اور تکمیلی ہے۔

قرآن رمضان کو:

  • مقصد اور معنا دیتا ہے (تقویٰ و ہدایت)،
  • محور دیتا ہے (شبِ قدر)،
  • گہرائی دیتا ہے (روح کا روزہ، نہ صرف جسم کا)۔

اور رمضان قرآن کو:

  • اجتماعی میدان دیتا ہے،
  • تلاوت کی ثقافت  کوزندہ کرتا ہے،
  • دلوں کو تدبر اور تبدیلی کے لیے تیار کرتا ہے۔

اگر اس تعلق کو صحیح سمجھ لیا جائے تو رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں رہتا، بلکہ ایک قرآنی تحریک بن جاتا ہے۔

إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ
"یہ قرآن سب سے سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے۔”

اور رمضان اس راستے پر چلنے کا بہترین موقع ہے۔

رمضان کی شکوفائی کا راز قرآن میں ہے، اور قرآن کی حیات کا راز رمضان میں۔ یہ دونوں مؤمن کی پرواز کے دو پر ہیں-ایک نورِ کلامِ الٰہی کا، اور دوسرا ضیافتِ ربانی کے زمانے کا۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مہینے میں قرآن کے ساتھ جیتے ہیں-صرف اسے پڑھتے نہیں، بلکہ اسے اپنے اندر اُتارتے ہیں۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں