فتویٰ پینل – جلد 03 شمارہ 08
روزه
مراجعِ عظامِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی اور آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام عزّہم العالی) کے فتوؤں کے مطابق۔
روزہ واجب ہونے کی شرائط (کن لوگوں پرروزہ واجب ہے؟)
1۔ روزہ اس وقت واجب ہوتا ہے جب کسی شخص میں درج ذیل شرائط پائی جائیں:
- بالغ ہو
- عاقل ہو
- طاقت/استطاعت (روزہ رکھنے کی توانائی) رکھتا ہو ۔
- بے ہوش نہ ہو
- مسافر نہ ہو
- حیض یا نفاس کی حالت میں نہ رہے
- روزہ مضر (نقصان دہ) نہ ہو۔
- روزہ عُسر و حَرَج (شدید اور ناقابلِ برداشت مشقت) کا باعث نہ ہو
- اگر کوئی بچہ اذانِ فجر سے پہلے بالغ ہو جائے تو اس پر روزہ واجب ہے، لیکن اگر اذان کے بعد بالغ ہو تو اُس دن کا روزہ اس پر واجب نہیں۔
آیت اللہ سیستانی: لیکن اگر اس نے مستحب روزے کی نیت کی ہو تو احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ وہ روزہ پورا کرے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اور اگر اذان کے بعد بالغ ہو اور کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزہ باطل کرتا ہے، تو احتیاطِ واجب یہ ہے کہ وہ روزہ رکھے اور بعد میں اُس کی قضا بھی کرے۔ - جو لڑکیاں نئی نئی سنِ بلوغ کو پہنچتی ہیں، اُن پر روزہ واجب ہو جاتا ہے، اور صرف دشواری، جسمانی کمزوری وغیرہ کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز نہیں، مگر یہ کہ روزہ نقصان دہ ہو یا شدید اور ناقابلِ برداشت مشقت کا سبب بنے۔
روزے کے صحیح ہونے میں رکاوٹیں (کن امور کی وجہ سے روزہ باطل یا غیر صحیح ہو جاتا ہے؟)
- حیض یا نفاس والی عورت کا روزہ صحیح نہیں؛ حتیٰ کہ اگر مغرب سے چند لمحے پہلے حیض آ جائے یا زچگی ہو جائے۔ اسی طرح اگر فجر طلوع ہونے کے تھوڑی دیر بعد پاک ہو تو بھی (اُس دن کا روزہ صحیح نہیں)۔
- اگر نقصان کا یقین ہو یا عقلائی طور پر نقصان کا خوف موجود ہو تو روزہ واجب نہیں، بلکہ بعض اوقات حرام بھی ہو جاتا ہے۔ اور اگر نقصان کے باوجود روزہ رکھ لے تو روزہ صحیح نہیں، مگر یہ کہ اس نے قربت کی نیت سے روزہ رکھا ہو اور بعد میں معلوم ہو کہ درحقیقت کوئی نقصان نہیں تھا۔
- اگر کسی کو گمان ہو کہ روزہ نقصان دہ نہیں، لیکن بعد میں معلوم ہو کہ نقصان تھا، تو روزہ باطل ہے اور اس کی قضا بجا لانا واجب ہے۔
- نقصان کی تشخیص خود مکلف کے ذمے ہے؛ ڈاکٹر کی رائے اسی صورت میں معتبر ہے جب اس سے اطمینان پیدا ہو یا عقلائی خوفِ ضرر پیدا ہو۔
دن میں اگر روزه دار کی حالت تبدیل ہو جائے تو کیا حکم ہے ؟
- اگر مریض دن میں کسی وقت ٹھیک ہو جائے تو اسی دن کا روزہ رکھنا واجب نہیں ہے۔
- اگر ظہر سے پہلے ٹھیک ہو جائے اور کوئی مبطلِ روزہ انجام نہ دیا ہو تو احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ نیت کر کے روزہ رکھ لے، لیکن ماہِ رمضان کے بعد اس کی قضا بھی بجا لائے۔
آیت اللہ سیستانی: اگر ماہِ رمضان کے دن میں ظہر سے پہلے مریض ٹھیک ہو جائے اور اُس وقت تک اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزہ باطل کرتا ہے، تو احتیاطِ واجب کی بنا پر وہ نیتِ روزہ کرے اور اُس دن کا روزہ رکھے۔ اور اگر ظہر کے بعد ٹھیک ہو تو اُس دن کا روزہ اس پر واجب نہیں، لیکن اُس کی قضا بجا لانا لازم ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اگر ماہِ رمضان کے دن میں ظہر سے پہلے مریض ٹھیک ہو جائے اور اُس وقت تک کوئی مبطل انجام نہ دیا ہو تو نیتِ روزہ کرے اور اُس دن کا روزہ رکھے، اور احتیاطاً قضا بھی کرے۔ اور اگر ظہر کے بعد ٹھیک ہو تو اُس دن کا روزہ واجب نہیں، صرف اُس کی قضا بجا لائے۔
واجب روزے کی موجودگی میں مستحب روزہ رکھنا
واجب روزے (بالخصوص قضا) اور مستحب روزے کے درمیان تعارض
- مستحب روزے رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان کے ذمّہ ماہ رمضان کا کوئی بھی قضا روزہ نہ رہے، اور نیز احتیاطِ واجب کی بنا پر کوئی اور واجب روزہ بھی اس کے ذمہ نہ رہے۔
آیت اللہ سیستانی: جس شخص کے ذمّہ ماہِ رمضان کا قضا روزہ یا کوئی اور واجب روزہ ہو، وہ مستحب روزہ نہیں رکھ سکتا۔ - اگر کسی کو معلوم ہو کہ اس پر قضا روزہ واجب ہے، لیکن اسے یہ علم نہ ہو کہ قضا کی موجودگی میں مستحب روزہ صحیح نہیں ہوتا، اور وہ مستحب کی نیت سے روزہ رکھ لے، تو اس کا روزہ باطل ہے اور وہ قضا کے بدلے بھی شمار نہیں ہوگا۔
- اگر کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس پر قضا روزہ باقی ہے، اور وہ "ما فی الذمہ ” (یعنی جو میرے ذمہ روزہ ہے) کی نیت سے (خواہ قضا ہو یا مستحب) روزہ رکھ لے، ایسی صورت میں اگر کوئی قضا روزہ اس کے ذمے تھا تو وہ روزہ قضا کے طور پر شمار ہوگا۔
بھولے ہوئے قضا روزے
1۔ جس شخص پر ماہِ رمضان کے قضا روزے واجب ہوں، اگر وہ اسے بھول جائے اور مستحب روزہ رکھ لے تو:
- اگر ظہر سے پہلے یاد آ جائے تو وہ قضا کی نیت کر سکتا ہے۔
- اگر ظہر کے بعد یاد آ جائے تو اب قضا کی نیت بھی اس کے لئے صحیح نہیں ہے۔
آیت اللہ سیستانی: اور اگر ظہر کے بعد یاد آئے تو احتیاط کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اور اگر ظہر کے بعد یاد آئے تو اس کا روزہ باطل ہے۔
روزے کے واجبات
روزے میں جن باتوں کی رعایت ضروری ہے وہ دو ہیں: 1۔ نیت 2۔ مبطلاتِ روزہ سے پرہیز
نیّت
- روزے کو، دیگر تمام عبادات کی طرح (قربۃ الی اللہ) کی نیت کے ساتھ رکھنا ضروری ہے۔، یعنی روزہ کے مبطلات سے بچنا اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور صرف اس کی خوشنودی کی خاطر ہو۔ البتہ صرف دل میں ارادہ اور عزم کافی ہے، اسے زبان سے کہنا ضروری نہیں۔
- جس دن کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ وہ شعبان کا آخری دن ہے یا ماہِ رمضان کا پہلا دن (جسے یومُ الشک کہا جاتا ہے)، اُس دن کا روزہ واجب نہیں۔ اگر کوئی اس دن روزہ رکھنا چاہے تو وہ رمضان کی نیت نہیں کر سکتا، بلکہ شعبان کے مستحب روزے یا قضا روزے وغیرہ کی نیت کر سکتا ہے۔ اگر بعد میں معلوم ہو جائے کہ وہ دن رمضان کا تھا، تو وہ روزہ رمضان کے روزوں میں شمار ہوگا اور اس کی قضا لازم نہیں ہوگی۔ اور اگر دن کے دوران معلوم ہو کہ ماہِ رمضان ہے تو اسی لمحے سے رمضان کی نیت کرنا ضروری ہے۔
آیت اللہ سیستانی: لیکن اگر کوئی اس نیت سے روزہ رکھے کہ اگر رمضان ہے تو رمضان کا روزہ ہوگا اور اگر رمضان نہیں تو قضا یا اس جیسا کوئی اور روزہ ہوگا، تو اس کا روزہ صحیح ہے؛ البتہ بہتر یہ ہے کہ قضا وغیرہ کی نیت کرے۔ اور اگر بعد میں معلوم ہو جائے کہ وہ رمضان تھا تو وہ رمضان ہی میں شمار ہوگا۔ اسی طرح اگر مطلق روزے کی نیت کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ رمضان تھا، تو بھی کافی ہے۔
خبریں ان باکس کے ذریعے
نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

