آیتِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 08

Ayah Of The Week - Volume 03 Issue 08
Last Updated: فروری 17, 2026By Categories: آیتِ ہفتہ0 Comments on آیتِ ہفتہ – جلد 03 شمارہ 080 min readViews: 6

حقیقی عدالت» یا « مشتبہ  عدالت»؟ 

 لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ
"ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگوں میں انصاف قائم کریں۔”

(سورۂ حدید،آیت25)۔

اس آیتِ کریمہ پر غور و فکر کی ضرورت : چونکہ 20/فروری کو عالمی یومِ سماجی انصاف منایا جاتا ہے؛  اس لئے ہم  نےاس ہفتے اس آیت کا انتخاب کیا ہے۔ یوں تو اس دن انسانوں میں انصاف، عزتِ نفس اور مساوی مواقع کی گہری ضرورت  محسوس کی جاتی ہے،  تاہم موجودہ دنیا میں بہت سے تصورات "سماجی انصاف” کے عنوان سے پیش کئے جاتے ہیں جو  اکثر حقیقت یا الٰہی ہدایت پر مبنی نہیں ہوتے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ہر وہ دعویٰ جو عدالت کے نام پر کیا جائے، لازماً حقیقی عدالت  پر مبنی نہیں ہوتا۔

قرآنِ کریم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی عدالت کا معیار ایمان، وحی اور الٰہی اقدار ہیں، نہ کہ بدلتے ہوئے سماجی رجحانات یا انسانی خواہشات۔ اسی تناظر میں  مندرجہ بالا آیت ، حقیقی اور ظاہری عدالت کے درمیان فرق کرنے واضح معیار فراہم کرتی ہے۔

آیت کے تعلیمی پیغامات: نوجوانوں کے لئے:

1۔حقیقی عدالت ،الٰہی ہدایت سے آتی ہے۔

ہر وہ تصور جو "سماجی انصاف” کے نام سے پیش کیا جائے، ضروری نہیں کہ وہ واقعی عادلانہ ہو۔ حقیقی عدالت وہ ہے جو انبیاء کی ہدایت، قرآن اور الٰہی معیار کے مطابق ہو۔

عملی چیلنج: کسی نعرے یا تحریک کی حمایت سے پہلے یہ پرکھیں کہ آیا وہ اسلامی اقدار سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔

2۔ عدالت ، اپنےمعاشرے میں  قائم کیا جائے۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ لوگوں کو خود انصاف کے لئے کھڑا ہونا چاہئے۔

عملی چیلنج:  اپنے مدرسے یا معاشرے میں کسی ایک چھوٹی ناانصافی کی نشاندہی کریں اور پھر  پرامن طریقے سے اسے درست کرنے کی کوشش کریں۔
3۔ عدالت کا آغاز  خود اپنے آپ سے ہونا چاہئے ۔

ایک عادلانہ معاشرہ اس وقت بنتا ہے جب ہر فرد اپنی روزمرہ زندگی میں انصاف کا مظاہرہ کرے۔

عملی چیلنج: آج ہر شخص کے ساتھ انصاف سے پیش آئیں، چاہے یہ مشکل ہی کیوں نہ ہو۔
4۔ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی آواز کا درست استعمال کریں۔ کیونکہ آن لائن ماحول میں بھی انصاف کی اہمیت کم نہیں ہے۔

عملی چیلنج: ایسا پیغام یا پوسٹ شیئر کریں جو انصاف اور احترام کو فروغ دے۔

5۔ انصاف پر مبنی تنقید کو برداشت کرنا سیکھیں۔

جب کوئی آپ سے انصاف کا مطالبہ کرے یا آپ پر تنقید کرے، تو اسے ناراض ہونے کے بجائے اصلاح اور ترقی کا موقع سمجھیں۔

عملی چیلنج: اگلی بار جب کوئی آپ پر تنقید کرے، تو فوراً جواب دینے کے بجائے توقف کریں، توجہ سے سنیں اور شکریہ ادا کریں۔

آیت کے تعلیمی پیغامات: والدین کے لئے:

1۔ ایمان کی روشنی میں ناانصافی کی پہچان، اپنے بچوں کو سکھائیں کہ وہ سماجی مسائل کو قرآنی اقدار اور انبیاء کی ہدایت کی روشنی میں پرکھیں، چاہے وہ بظاہر انصاف کے نام پر ہی کیوں نہ ہوں۔

عملی چیلنج: اس ہفتے کسی ایک موجودہ سماجی مسئلے پر گھر میں اسلامی نقطۂ نظر سے گفتگو کریں۔

2۔ بچوں کے جذبۂ انصاف کی حوصلہ افزائی فرمائیں ۔ اپنے بچوں کے سماجی شعور اور انصاف پسندی کو اہمیت دیں۔

عملی چیلنج: کسی موقع پر اپنے بچے کو حق کی حمایت پر علانیہ سراہیں۔

3۔ ایمان پر مبنی  خودعملی انصاف کا نمونہ بنیں۔

آپ کا طرزِ عمل قرآنی انصاف کا عملی مظہر ہونا چاہیے، کیونکہ بچے آپ کے کردار سے سیکھتے ہیں۔

عملی چیلنج: اپنی کسی روزمرہ ناانصافی کی عادت کو درست کریں اور بچوں کو بتائیں کہ آپ نے یہ تبدیلی کیوں کی۔

4۔ گھر میں ہمدردی کی تربیت دیں۔ اس لئے کہ دوسروں کے درد کو سمجھنا انصاف کی بنیاد ہے۔

عملی چیلنج: اس ہفتے اپنے بچے سے کسی ایک سماجی مسئلے پر گفتگو کریں اور اس میں متاثرین کے احساسات پر بات کریں۔

5۔ بچوں کو حق کے لئےکھڑے ہونے کی ہمت پیدا کریں۔ اس لئے کہ شجاعت، انصاف کا لازمی حصہ ہے۔

عملی چیلنج: اپنے بچے کو کسی اختلاف کو منصفانہ انداز میں حل کرنے کی ترغیب دیں۔

6۔ ایمان کو سماجی ذمہ داری سے جوڑیں ۔ کیونکہ  ہمیں کمزور اور مظلوم افراد کی حمایت کی تعلیم دیتا ہے۔

عملی چیلنج: اس ہفتے بطورِ خاندان کوئی ایک خیراتی یا رفاہی کام انجام دیں۔

آیت کے تعلیمی پیغامات: ائمہ جماعت اور روحانی پیشواؤں کے لئے :

1۔ عدالت، وحی کا بنیادی مقصد ہے۔لوگوں کو واضح کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور آسمانی کتابیں اسی لئےنازل فرمائیں کہ معاشرے میں انصاف قائم ہو۔

عملی چیلنج: اس مہینے کی ایک مکمل خطبہ یا تقریر کو قرآنی تصورِ عدالت کے لئے مخصوص کریں۔

۔.2۔ مشتبہ عدالت کی نشان دہی کریں

وضاحت کریں کہ بعض جدید نظریات جو عدالت کے نام پر پیش کئے جاتے ہیں، ایمان اور الٰہی اقدار سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ یہ حقیقی عدالت نہیں بلکہ محض ظاہری یا گمراہ کن انصاف ہیں۔

عملی چیلنج: ایک مختصر خطاب تیار کریں جس میں حقیقی عدالت اور گمراہ کن نظریات کے درمیان فرق واضح کیا جائے۔

3۔ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں۔یاد رکھئے! خاموشی غیر جانب داری نہیں بلکہ بالواسطہ ظلم کی طرفداری ہے۔

عملی چیلنج: اپنے معاشرے کے کسی کمزور یا محروم طبقے کی علانیہ حمایت کریں۔

4۔ نوجوانوں کو حقیقی عدالت کی مسلسل ہدایت  دیاکریں۔

نوجوانوں کو اخلاقی رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ الٰہی اقدار پر مبنی انصاف کی طرف درست قدم بڑھا سکیں۔

عملی چیلنج:کسی ایک نوجوان کی اخلاقی قیادت اور سماجی شعور کی تربیت میں ذاتی طور پر رہنمائی کریں۔

اس کا اشتراک کریں، اپنا پلیٹ فارم منتخب کریں!

خبریں ان باکس کے ذریعے

نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں